نیشنل ریفائنری لمیٹڈ

نیا سی یو آئی این (CUIN) رجسٹریشن نمبر۰۰۰۱۷۴۷ این ٹی این (NTN) نمبر (۷-۰۷۱۱۳۲۵)

امتیازی نشان

۱۹۶۶

پہلی لیوب ریفائنری

پہلی لیوب ریفائنری کی تعمیر کا کام مئی ۱۹۶۴ ؁ میں شروع کیا گیا تھا۔ ریفائنری میں پیداواری عمل کی ابتداء خام تیل ریفائننگ کی صلاحیت سالانہ٥٣٩،٧٠٠ ٹن اور مختلف گریڈ کے لیوب بیس آئل کی پیداواری صلاحیت سالانہ ۷۶،۰۰۰ ٹن اور اسفالٹ کی پیداواری صلاحیت سالانہ ۱۰۰،۰۰۰ ٹن کے ساتھ جون ۱۹۶۶ ؁میں ہوئی۔ یہ ریفائنری ملک کی فیول مصنوعات خاص طور پر مٹّی کے تیل اور ڈیزل کی کمی کو بھی پورا کرتی تھی ۔

۱۹۷۲

حکومتِ پاکستان نے ۱۶ جنوری ۱۹۷۲ ؁ کو اکنامک ریفارمز آرڈر کے تحت ریفائنری کا انتظام سنبھال لیا اور تمام انتظامی ہدایات (managerial directions) وزارتِ پیداوار کو سونپ دیے گئے۔

۱۹۷۷

فیول ریفائنری
پہلی لیوب ریفائنری کی تنصیب کے بعد ، آنے والے سالوں میں فیول مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کے سبب ریفائننگ صلاحیت میں مزید اضافہ کی ضرورت محسوس کی گئی۔ سن ۱۹۷۴ میں نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے رومانیہ کی انڈسٹریل ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ سے سالانہ ۵. ۱ ملین ٹن خام تیل ریفائننگ صلاحیت کی حا مل فیول ریفائنری کی ٹھیکیداری بنیاد پر تعمیر کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔ چونکہ فیول ریفائنری کو پہلی لیوب ریفائنری کے ساتھ شامل کیا جانا تھا، اس بناء پر اسی احاطے میں ایک جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ این آر ایل کی فیول ریفائنری ملک کی بڑھتی ہوئی صنعتی پیش رفت میں ایک نیا اضافہ تھا۔ فیول ریفائنری ایل پی جی، موٹر گیسولین، ایچ او بی سی، نافتا (Naphtha)، کیروسین (Kerosene)، جیٹ فیولز (جے پی-۱)، (جے پی-۴)، ہائی اسپیڈ ڈیزل آئل (ایچ ایس ڈی)، فرنس آئل کی پیداوار کیلئے ۱۹۷۷ ؁ میں پایہتکمیل تک پہنچی۔

۱۹۷۹

بی ٹی ایکس پلانٹ
پیٹروکیمکلز/سالوینٹس (solvents) بینزین (Benzene)، ٹالین (Toluene) اور زالین (Xylene) خصوصی طور پر دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹالین (Toluene) کی ملکی سطح پر مانگ کے ساتھ ساتھ ایک بی ٹی ایکس پلانٹ کیلئے خام مال بھی فیول ریفائنری سے دستیاب تھا۔ لہذا ۱۹۷۹ ؁ میں سالانہ ۲۵،۰۰۰ میٹرک ٹن بینزین (Benzene)، ٹالین (Toluene) اور زالین (Xylene) کی پیداواری صلاحیت کے حامل پیٹروکیمکل بی ٹی ایکس پلانٹ کی تنصیب عمل میں لائی گئی اور ملک کی پہلی پیٹروکیمکلز یونٹ کو فیول ریفائنری کے دیگر یونٹوں کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔ فی الحال یہ استعمال میں نہیں ہے۔

۱۹۸۰

پروپین ریکوری یونٹ (پی آر یو)
لیوب ریفائنری کے مختلف یونٹوں میں ایکسٹریکشن (extraction) اور ریفریجریشن (refrigeration) کیلئے بہترین شفّاف پروپین کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ۱۹۸۰ ؁ میں پروپین ریکوری یونٹ کی تنصیب ہوئی۔ پلانٹ کی تفصیلی انجینئرنگ اور ڈیزائن مقامی طور پر کیا گیا تھا۔ پلانٹ سالانہ ۱۲۰۰ ٹن بہترین شفّاف پروپین کی پیداوار کیلئے ڈیزائن کیا گیا جوکہ دونوں لیوب ریفائنریز کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

۱۹۸۵

دوسری لیوب ریفائنری
۱۹۸۰ کی دہائی کی ابتداء میں پاکستان میں صنعتی ترقّی نے پیٹرولیم مصنوعات کی طلب اوررسد کے منظرنامے کو تبدیل کر دیا تھا۔ فیول بزنس مارکیٹ کی مکمل طلب کو پورا کر رہا تھا جبکہ لیوبز آئل کیلئے خطے میں مخصوص سپلائی کے ذرائع تھے۔ اسکے پیشِ نظر، این آر ایل نے ۱۹۸۵ ؁ میں دوسری لیوب ریفائنری کی تنصیب مکمل کی، جسکی پیداواری صلاحیت سالانہ ۱۰۰،۰۰۰ ٹن لیوب بیس آئل ہے۔ اس لیوب ریفائنری کیلئے خام مال کی دستیابی فیول ریفائنری سے زائد فرنس آئل کی موجودگی تھی، جسکو لیوب کیلئے اپ گریڈ کیا جاتا تھا۔ اس منصوبے کے لئے بنیادی انجینئرنگ اور ڈیزائن کا کام امریکہ کی ٹیکساکو (Taxaco) ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی مشاورت سے برطانیہ کی سی ای لومَس (CE Lummus) نے کیا۔اجتماعی کوششوں کے نتیجہ میں، جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل ریفائنری این آر ایل کے انتہائی متاٗثر کن کمپلیکس میں ظہور پذیر ہوئی۔دوسری لیوب ریفائنری کی تکمیل سے ملک میں سب سے بڑا خام تیل ریفائننگ کمپلیکس وجود میں آیا۔

۱۹۹۰

فیول ریفائنری کی بہتری (Revamp)
۱۹۸۰ ؁ کی دہائی کے آخر میں ملک میں فیول مصنوعات کی طلب کی شرح میں مثبت پیش رفت ہوئی۔ تاہم، منصوبوں کی لاگت کی سود مندی کو پہلے اہمیت دی گئی۔ نتیجتاً، جدید ریفائنریز کے ساتھ ہم قدم ہونے اور خام تیل کی فی بیرل پروسیسنگ کی لاگت کو کم کرنے کیلئے، این آر ایل نے ۱۹۹۰ ؁ میں فیول ریفائنری کی بہتری (revamp) کے منصوبے کو لاگو کیا۔ بہتری (revamp) کا منصوبہ توانائی کے تحفّظ پر مبنی تھا، جس سے توانائی کی کھپت میں اضافہ کیے بغیر ۱۵،۰۰۰ بی پی ایس ڈی (BPSD) کی صلاحیت میں اضافہ کی استعداد حاصل ہو جائے۔ بہتری کے بعد، این آر ایل کی خام تیل کی پروسیسنگ صلاحیت سالانہ تقریباً ٢.٧١ ملین ٹن تک پہنچ گئی۔
پلیٹ فارمنگ یونٹ (platforming unit) میں جدّت اور توازن کا کام ۱۹۹۵ ؁ میں کیا گیا اور بڑے سائزوں کے ری ایکٹروں کی تنصیب کا کام ۱۹۹۷ ؁ میں کیا گیا۔ ہائی اوکٹین ری فارمٹ (High Octane reformat) کی پیداوار میں %۷۰ اضافہ نے اعلیٰ معیاری ان لیڈڈ (unleaded) موٹر گیسولین (motor gasoline) کی پیداوار کو ممکن بنایا۔

۱۹۹۸

نیشنل ریفائنری کا کارپوریٹ کنٹرول وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کو منتقل کر دیا گیا۔

۲۰۰۰

سیلف پاور جنریشن
ہائی پریشر اسٹیم بوائلر سے پاور جنریشن کے اصول کی بنیاد پر، ۵.۷ میگا واٹ کا پاور جنریشن یونٹ نصب کیا گیاتاکہ پاور سپلائی کی خرید پر انحصار کم ہوسکے۔ ۲۰۰۰ ؁ میں اسکے برسرِ عمل آنے کے ساتھ، توانائی کے تحفّظ اور کم لاگت کی بجلی کی فراہمی کے علاوہ ذاتی پاور جنریشن بجلی کی فراہمی کی بناء پرپیداواری نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملی۔

۲۰۰۵

دوسری لیوب ریفائنری دی ویکسنگ (Dewaxing) یوبٹ کا بہتری (Revamp) منصوبہ
ایل بی او کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے، ۲۰۰۵ ؁ میں ایکزون موبل (Exxon Mobil) کی تکنینی مددکے ساتھ لیوب کی بہتری (revamp) کے منصوبے کو شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کی تکمیل پر، دوسری لیوب ریفائنری کی پیداواری صلاحیت میں سالانہ۱۴،۸۰۰ ٹن کا اضافہ ہو گیا۔ ڈلچل کرسٹلائزیشن پراسس ٹیکنالوجی (dilchill crystallization process technology) کو ہائی وسکاسٹی برائٹ اسٹاک (بی ایس ایچ وی آئی) (high viscosity bright stock (BS HVI)) کے لیوب آئل کی پیداوار کیلئے استعمال کیا گیا۔

۲۰۰۹-۱۰

اسٹوریج ٹینکس کا اضافہ
تیزی سے تبدیل ہوتی مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے اور آپریشنل لچک میں اضافہ کرنے کیلئے، خام تیل اور مختلف مصنوعات جیسے کہ فرنس آئل، لیوب بیس آئل، ایچ ایس ڈی، اسفالٹ اور جے پی-۱ کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نو (۹) اسٹوریج ٹینکس کے اضافہ سے بڑھ گئی۔

۲۰۱۰

نیا واٹر ریزروئر
موسم گرما میں پانی کی شدید کمی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے، تین ملین گیلن پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ایک نئے واٹر ریزروئر کا اضافہ کیا گیا۔

مصنوعات کی پیمائش کا نظام (P-M-S)
کمپنی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیز(OMCs) کو مصنوعات کی تحویل کی منتقلی کے لئے ریفائنری اور کیماڑی ٹرمینل پر مصنوعات کی پیمائش کے نظام (P-M-S) کو لاگو کیا ہے۔ ابتدائی طور پر منصوبہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز (OMCs) کو HSD پمپنگ ہینڈل کر رہا ہے۔

ریڈار گیجنگ سسٹم (Radar Gauging System)

مصنوعات کی تحویل کے سلسلے میں ٹینکوں کی صحیح پیمائش کیلئے ریڈار گیجنگ سسٹم ۱۰۵ٹینکوں پر نصب کئے جا چکے ہیں۔

۲۰۱۵-۱۶
انفارمیشن ٹیکنالوجی
کمپنی کے پاس ایک مضبوط انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صلاحیت ہے۔ کمپیوٹرائزڈ انسٹرومینٹیشن (instrumentation) اور آٹو ٹینک گیجنگ (gauging) لاگو کیا جا رہا ہے۔ تکنیکی عملہ مختلف کمپیوٹر سافٹ ویئر کو پراسیس ڈیزائن، کارکردگی کی نگرانی،بناوٹ اور انجینئرنگ ڈیزائن کے لئے استعمال کرتا ہے۔

این آر ایل مندرجہ ذیل ماڈیولز کے ساتھ ۲۰۰۴ ؁ میں انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP) سولوشن (solution)، سیپ (ورژن ۶.۴ سی) (SAP (version 4.6C))کو لاگوکر چکا تھا:

۱.فنائنس اینڈ کنٹرولنگ(FICO)
۲. مٹیریل منیجمنٹ (MM)
۳. سیلز اینڈ ڈسٹری بیوشن (SD)
۴. پلانٹ مینٹیننس (PM)
۵. ہیومن رسورس (HR)

کمپنی نے ۱۵-۲۰۱۴ ؁میں بہتر انتظام اور مالیاتی رپورٹنگ کے لئے اپنے ای آر پی (ERP) نظام کی اپ گریڈیشن کروائی ہے۔ اس تناظر میں، کمپنی نے مندرجہ ذیل اضافی ماڈیولز کے ساتھ ساتھ سیپ (SAP) کا نیا ورژن ای سی سی سکس (ECC6) خرید کر نافذ کر دیا ہے۔

۔پروجیکٹس سسٹم (PS)
۔ آڈٹ انفارمیشن سسٹم (AIS)
۔کوالٹی اشورنس (QA)

نائٹروجن گیس جنریٹر
مالیاتی economization کے مقصد کے لئے ۲۰۱۵ ؁ نومبرمیں۴۰۰ عمومی کیوبک میٹر / گھنٹہ کی صلاحیت کے ساتھ نائٹروجن گیس جنریٹر کامیابی کے ساتھ کمیشن کیا گیا ۔ نائٹروجن گیس کا استعمال بطور اِنرٹ میڈیا (inert media) MEK یونٹسپر کیا جائے گا۔

ریورس اوسموسس پلانٹ (Reverse Osmosis Plant)
۲۵۰,۰۰۰ گیلن فی یوم کے ریورس اوسموسس پلانٹ (Reverse Osmosis Plant) کی تنسیب اور بنیاد مئی سن ۲۰۱۴ میں رکھی گئی۔پانی کی قلت اور ریفائنری اوپریشنز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے ۲۰۱۶ ؁ جون میں ۲۵۰,۰۰۰ گیلن فی یوم کے ریورس اوسموسس پلانٹ (IV Reverse Osmosis Plant) کی تنسیب مکمل کر لی ہے۔

ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ
ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ پانی کو آلودگی سے صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حاصل شدہ تیل کو دوبارہ استعمال کیا جاتاہے اور پانی کو آراہ پلانٹس کیلئے ٖفیڈ اسٹاک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پلانٹ کی تنصیب کی تکمیل ۲۰۱۶ ؁جون میں ہوئی۔

ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ
ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ پانی کو آلودگی سے صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حاصل شدہ تیل کو دوبارہ استعمال کیا جاتاہے اور پانی کو آراہ پلانٹس کیلئے ٖفیڈ اسٹاک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پلانٹ کی تنصیب کی تکمیل ۲۰۱۶ ؁جون میں ہوئی۔

تکمیل شدہ منصوبے 17-2016
کمپنی نے سال 2016-17 میں کامیابی کے ساتھ مندرجہ ذیل منصوبے مکمل کیے۔

ڈیزل ڈی سلفیورائزیشن
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی وسائل کی ہدایت کے مطابق این آر ایل نے EURO IIمعیار کے ڈیزل (500 پی پی ایم سے کم) کی پیداوار کیلئے کامیابی کیساتھ ڈیزل ڈی سلفیورائزیشن (ڈی ایچ ڈی ایس) پلانٹ کومکمل کر لیا ہے۔ پلانٹ میں سلفر کو کم از کم 10 پی پی ایم تک کم کرنے کی صلاحیت ہے جو مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے میں این آر ایل کی مدد کر سکتا ہے۔ اس منصوبے کو جون 2017 میں کامیابی کیساتھ کمیشن کر لیاگیاہے۔آمدنی میں کسی بھی بڑے اضافے کے بغیر کمپنی نے ڈی ایچ ڈی ایس منصوبے کی لاگت پر 26 ارب روپے لگائے جبکہ حکومت کیجانب سے ابتدائی اعلان کردہ ڈیوٹی میں %7.5 سے %9 اضافے کے عملدرآمد میں تاخیر ہے۔ کمپنی حکومت کیساتھ ریفائنریز کو ڈیمڈ ڈیوٹی میں اضافہ کرنے کی اجازت دینے کیلئے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بڑی سرمایہ کاری کی لاگت اور پراسیسنگ اخراجات وصول کیے جاسکیں۔

سی ڈی یو ریومپ پراجیکٹ
اس منصوبے کی تکمیل کے ذریعے فیول ریفائنری کے کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ میں خام تیل کی پیداواری صلاحیت 62,000 بیرل یومیہ سے بڑھ کر 65,000 بیرل یومیہ ہو گئی ہے۔

8.2 میگاواٹ کے استعمال شدہ ڈیزل جنریٹر کی تنصیب اور کمیشننگ
اپگریڈیشن منصوبوں کی وجہ سے کمپنی کی توانائی کی مانگ میں اضافہ ہواہے۔ بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کمپنی نے 8.2 میگاواٹ صلاحیت کا حامل ایک استعمال شدہ ڈیزل جنریٹر خریدا ہے جو کہ کامیابی سے تنصیب کر دیا گیا۔ یہ جنریٹر کمپنی کی بجلی کی ضروریات کو پور ا کر رہا ہے۔

تکمیل شدہ منصوبے 18-2017

آئیسومرائزیشن
آئیسومرائزیشن منصوبہ اکتوبر ۲۰۱۷ ؁ میں کمیشن ہو ا۔آئیسومرائزیشن کے ذریعہ کمپنی اپنے بیشتر نیفتھاکو، جسکی کوئی مقامی مارکیٹ نہیں ہے، پیٹرول میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور اسکی بدولت ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی قیمت بھی حاصل ہوگی۔این آرایل کی کل آئسومریٹ پیداواری صلا حیت ۶,۷۹۳ بی پی ایس ڈی ہے۔

موجودہ ٹربو جنریٹر کی اپگریڈیشن
بجلی کے پیداواری یونٹ میں اسٹیم ٹربائن کو ملٹی ایکسٹریکشن بیک پریشر ٹربائن سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔یہ اندرونی طور پر بجلی کی پیداوار کی مجموعی فی یونٹ لاگت کم کر دیگا۔ یہ پراجیکٹ میسرز سیمنس انجینئرنگ پاکستان کو دیا گیاتھا جو کہ ستمبر 2017 میں کا میابی کے سا تھ مکمل ہوچکا ہے۔